سرجانی ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات: ایس بی سی اے افسران کی نگرانی، صوبائی حکومت کی خاموشی

کراچی: شہر کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس کا پورا نظام مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے اعلیٰ افسران کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، علاقے میں کم از کم 70 سے زائد تعمیراتی منصوبے جاری ہیں جو ایس بی سی اے کے منظور شدہ نقشوں، رہائشی قوانین، اور شہری سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ذرائع کے دعوے کے مطابق، اس پورے نظام کی براہِ راست نگرانی:

ڈائریکٹر ویسٹ ایس بی سی اے، شہزاد سیال، ڈپٹی ڈائریکٹر، مسرور نبی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، عمیر کریم

کے ذریعے کی جا رہی ہے، اور ہفتہ وار بنیادوں پر غیر قانونی تعمیرات سے لاکھوں روپے کی ریکوری بھی مبینہ طور پر کی جاتی ہے۔

ماہرین اور مقامی رہائشیوں کے مطابق، غیر قانونی تعمیرات اب سرجانی ٹاؤن میں جرم نہیں بلکہ ایک کھلے عام کاروبار بن چکی ہیں، جہاں ہر فلور، اضافی پورشن، اور بغیر نقشہ منظور کیے جانے والے کام کا الگ ریٹ مقرر ہے، اور کوئی نوٹس، سیل، یا انہدامی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران کے دیگر علاقوں میں تعیناتی کے دوران بھی غیر قانونی تعمیرات کے نظام میں کوئی فرق نہیں آیا، یعنی پوسٹنگ اور لوکیشن بدل جانے کے باوجود طریقہ واردات وہی رہا۔

سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل، مزمل حسین ہالیپوٹو، اس معاملے سے باخبر ہونے کے باوجود تاحال خاموش ہیں اور نہ ہی کسی انکوائری یا معطلی کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ، ناصر حسین شاہ، اور وزیراعلیٰ سندھ، مراد علی شاہ، بھی اس معاملے سے آگاہ ہیں لیکن عملی اقدام تاحال سامنے نہیں آیا۔

ذرائع نے ایک اور اہم انکشاف کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے لیے ڈی جی ایس بی سی اے اور وزیر بلدیات کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کی بنیاد پر بلڈرز اور پلاٹ سے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو پورے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے، اور یہ انسانی جانوں، شہری منصوبہ بندی، اور قانون کی عزت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

عوام اور مقامی رہائشی مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری جوائنٹ انکوائری کی جائے، غیر قانونی تعمیرات کا فوری انہدام کیا جائے، اور ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.03 PM WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.03 PM 1 WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.04 PM WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.04 PM 1 WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.04 PM 2 WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.05 PM WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.05 PM 1 WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.06 PM WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.06 PM 1 WhatsApp Image 2025 12 25 at 9.01.06 PM 2

66 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!