اسلام آباد — نمائندہ خصوصی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کے روز اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست پاکستان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، ایک شخص اپنی خواہشات کے باعث اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ وہ ’’میں نہیں تو کچھ نہیں‘‘ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور اب ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی ایف ہیڈکوارٹرز کا آغاز ہو چکا ہے جو طویل عرصے سے قومی ضرورت تھا۔
’’ایک شخص بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر بیانیہ بنا رہا ہے‘‘
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج سیاست کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی سوچ کی عکاس ہیں، تاہم اگر کوئی شخص فوج یا اس کی قیادت پر حملہ آور ہو تو اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’’آرٹیکل 19 آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے مگر ریاست دشمن بیانیہ نہیں‘‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ایک مخصوص سیاسی بیانیہ جان بوجھ کر بھارت، افغانستان اور بیرون ملک بیٹھے عناصر کے ساتھ مل کر چلایا جا رہا ہے، جسے بھارتی میڈیا بھی بڑھ چڑھ کر نشر کرتا ہے۔
خارجیوں سے مذاکرات کی مخالفت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں سے بات چیت کا مطالبہ غیر منطقی ہے۔
’’جو خارجی ہمارے بچوں اور سپاہیوں کو شہید کر رہے ہیں، ان سے بات چیت کیسی؟‘‘
’’فوج پر تنقید نہیں، عوام کو بھڑکانے کی مذموم کوشش ہو رہی ہے‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک میں گورننس اور قومی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے فوج کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
’’ہم حق پر ہیں اور حق پر ہی رہیں گے۔‘‘
’’ہمیں ریاست کی حفاظت کا حلف ہے، کسی فرد واحد کی انا کو ریاست پر فوقیت نہیں‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج نہ سیاست کرتی ہے نہ سیاسی مفاد رکھتی ہے، البتہ ملکی سالمیت پر کسی قسم کے حملے یا بیانیے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
