کراچی: منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں مبینہ طور پر بغیر ہتھکڑی اور پروٹوکول کے ساتھ پیش کرنے کے معاملے پر حکومت سندھ اور پولیس حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کر دی ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے واقعے پر فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملزمہ کو پروٹوکول دینا ناقابلِ برداشت ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی مجرم قانون سے بالاتر نہیں اور ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق ہی برتاؤ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی وردی عوام کے اعتماد کی علامت ہے اور اختیارات کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس سے قبل جاوید عالم اوڈھو نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کی اور متعلقہ اہلکاروں کی معطلی کے احکامات جاری کیے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے سینئر افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ ڈی آئی جی ساؤتھ سے بھی فوری رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری کے بعد ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا امکان ہے۔
