آبادی میں تیزی سے اضافہ قومی سمٹ کے دوسرے دن علما و ماہرین کا خاندانی منصوبہ بندی پر اتفاق

پاپولیشن کونسل کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز علی مظہر نے سمٹ کے دوسرے دن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے روز ماہرین نے بڑھتی ہوئی آبادی اور دستیاب وسائل کے درمیان بڑھتے فرق پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آبادی کے نظم و نسق کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جائیں گے، ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
جڑواں شہروں میں پابندی کے باوجود PTI کا ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

علی مظہر نے بتایا کہ پہلے دن اسلامی اسکالرز کے کردار پر بھی تفصیلی بحث ہوئی، کیونکہ معاشرتی رویوں اور خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلوں پر سب سے زیادہ اثر علما کا ہوتا ہے۔

آج کے پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر علی محمد میر نے کی، جبکہ پینل میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مفتی زبیر اشرف عثمانی، ڈاکٹر قبلہ ایاز، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد اور ماہرِ قانون حمیرا مسیح الدین شامل تھے۔

آبادی کا بحران: مسئلہ تسلیم کرنا سب سے پہلا قدم

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آبادی کے مسئلے کو قوم کے سامنے کھل کر لانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب تک آبادی میں اضافے کو بطور "بڑے چیلنج” قبول نہیں کیا جائے گا، مسائل بڑھتے رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ زچگی کے بعد ڈپریشن جیسے مسائل کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا، کیونکہ ذہنی صحت آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے تناظر میں انتہائی اہم پہلو ہے۔
انہوں نے قانون سازوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے جامع بحث ہونی چاہیے اور آبادی کے بحران پر ایک "قومی چارٹر” تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے۔

اسلامی نقطہ نظر: خاندانی منصوبہ بندی ایک دینی ذمہ داری

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ اسلام ماں اور بچے کی صحت، خاندان کے تحفظ اور اعتدال کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علما کا اتفاق ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ رکھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ صحت کے لیے ضروری بھی ہے۔
انہوں نے علما کی جانب سے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی حمایت کی اور کہا کہ "اسلام وسائل اور آبادی کے درمیان توازن کی تلقین کرتا ہے۔”

چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد نے بھی خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، اس لیے ماں اور بچے کی صحت پر سرمایہ کاری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

شریعت اور خاندانی منصوبہ بندی: حدود اور اجازتیں

مفتی زبیر اشرف عثمانی نے کہا کہ "بڑھتی ہوئی آبادی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مگر عدم توازن مسئلہ ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ شریعت ماں کی صحت کو لاحق خطرات، ناقابلِ برداشت تکلیف، دودھ پلانے میں مشکلات یا بار بار پیچیدگیوں کی صورت میں پیدائش کے وقفے کی اجازت دیتی ہے۔

البتہ انہوں نے واضح کیا کہ غربت یا بیٹی کی پیدائش کے خوف کی بنیاد پر خاندانی منصوبہ بندی اسلامی موقف کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو "رزق” سے جوڑنے کے بجائے "صحت” کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ پیدائش نہ رکھا گیا تو ماں اور بچے کی صحت خطرے میں پڑتی ہے۔

خواتین کی نمائندگی: اصل اسٹیک ہولڈر کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے

ماہرِ قانون حمیرا مسیح الدین نے زور دیا کہ حمل کا بوجھ عورت اٹھاتی ہے، اس لیے فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہر حمل کے ساتھ موت کا خطرہ حقیقی ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے عورت کی مشاورت کے بغیر کرنا انصاف کے خلاف ہے۔”
ان کے مؤقف کو شرکا نے بھرپور پذیرائی دی۔

وسائل اور پالیسی کا بحران

شہری پلانر عارف حسن نے کہا کہ غریب طبقے کے لیے ہاؤسنگ پالیسی موجود ہی نہیں، ہر بار یہ معاملہ نجی شعبے کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جبکہ اصل مسئلہ "قیمت برداشت کرنے کی صلاحیت” ہے۔

سمٹ میں شریک قانون سازوں، ماہرین اور سفارت کاروں نے اتفاق کیا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی صحت، خوراک، پانی اور روزگار کے نظام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، اور وسائل کے مطابق آبادی کا نظم کیے بغیر ترقی ناممکن ہے۔

70 / 100 SEO Score

One thought on “آبادی میں تیزی سے اضافہ قومی سمٹ کے دوسرے دن علما و ماہرین کا خاندانی منصوبہ بندی پر اتفاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!