پاکستان تحریکِ انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی اجتماعات منعقد کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اسلام آباد اور راولپنڈی میں عوامی اجتماعات پر پابندیاں نافذ ہیں۔
Tuesday, 2nd, December 2025
وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے 18 نومبر کو دو ماہ کے لیے پابندی عائد کی تھی جبکہ راولپنڈی انتظامیہ نے پیر کے روز تین دن کی پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
اسی دوران ’پیس فل اسمبلی اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 2024‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دارالحکومت میں عوامی اجتماعات کی نگرانی کے خصوصی اختیارات دیتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے اعلان کیا کہ اپوزیشن ارکان پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے اور بعد ازاں ریلی کی صورت میں اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ عدالت اپنا حکم نافذ کرانے میں ناکام رہی اور جیل انتظامیہ بھی عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔
گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے آٹھویں بار ملاقات نہ ہونے پر جیل کے باہر دھرنا دیا تھا۔ عمران خان کے اہلِ خانہ کو بھی کئی ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ تاہم حکومت اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ وہ منگل کو کوئٹہ میں ایک عوامی اجتماع میں شرکت کریں گے جبکہ دیگر رہنما جڑواں شہروں کے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور اہلِ خانہ سے ملاقات نہ کرانے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
گورنر راج کی افواہیں اور پی ٹی آئی کا ردِعمل
پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی کسی بھی ممکنہ کوشش سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام صوبے میں مزید عدم استحکام اور انتشار پیدا کرے گا۔
کمیٹی نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی ہے، اسے غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگی۔
اسد قیصر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے باعث صوبہ معاشی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے جبکہ امن و امان کی صورت حال بھی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے این ایف سی اور قبائلی اضلاع کے انضمام سے متعلق کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، جبکہ صوبے کے تمام سیاسی دھڑوں کا امن جرگہ بھی مثبت جواب کے بغیر ختم ہوا۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا مزید کسی تنازع کا متحمل نہیں ہو سکتا اور افغانستان سے کشیدگی بات چیت کے ذریعے حل کی جانی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے پشاور–اسلام آباد موٹر وے انٹرچینج پر احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے جو بعد ازاں صوابی انٹرچینج تک جائے گی۔
پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم کے مطابق نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی سے بھی احتجاجی قافلے ریلی میں شریک ہوں گے۔
ایک اور رہنما نے بتایا کہ اسلام آباد اور پشاور کے درمیان ٹریفک معطل کرنے کے لیے موٹر وے کو بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ قانون ساز جڑواں شہروں کے احتجاج میں شرکت کریں گے جبکہ دیگر رہنما خیبر پختونخوا کی ریلی میں شامل ہوں گے۔
