کراچی — آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ’’ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025‘‘ کے 32ویں روز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ”اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس بلڈنگ“ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ان کے ہمراہ تھے جبکہ جاپان اور عراق کے قونصل جنرل، صوبائی وزراء، معزز مہمانان اور بین الاقوامی فنکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال پنجابی موسیقار فضل جٹ کے روایتی ڈھول پر شاندار پرفارمنس سے کیا گیا۔ دورے کے دوران محمد احمد شاہ نے وزیراعلیٰ کو فائن آرٹ، کمیونیکیشن، ٹیکسٹائل ڈیزائن، میوزک، تھیٹر اور ڈانس سمیت مختلف شعبوں کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ مراد علی شاہ نے سنگاپور کی مایا ڈانس کمپنی کے ڈاؤن سنڈروم بچوں اور دیگر بین الاقوامی فنکاروں سے بھی خصوصی ملاقات کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن اور قومی ترانے سے ہوا۔ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ احمد شاہ نے گزشتہ سال سے بھی بڑا ثقافتی میلہ سجایا ہے۔ "آج ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس بلڈنگ کا افتتاح میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔ آرٹس اسکول کو جلد یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جائے گا،” انہوں نے کہا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول نے روشنیوں کے شہر کراچی کو نئی زندگی دی ہے۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اپنے استقبالیہ خطبے میں کہا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے آرٹس کونسل نے صوبے کے ہزاروں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی۔ "یہ عمارت ایک تخلیقی شاہکار ہے جس کی تعمیر میں بین الاقوامی ماہرین نے حصہ لیا۔ ہر اینٹ محنت اور عشق سے رکھی گئی ہے،” انہوں نے کہا۔ احمد شاہ نے بتایا کہ یہ بلڈنگ صادقین کے فن اور آرٹس کونسل کی شناخت سے مزین ایک تاریخی فن پارہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آرٹس کونسل کی عمارت پہلے مختلف قبضوں اور غیر متعلقہ سرگرمیوں میں گھری ہوئی تھی، جسے خالی کرا کے جدید آرٹ اسکول کی شکل دی گئی۔ فیسٹیول میں بین الاقوامی فنکاروں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ آرٹس کونسل عالمی سطح پر پاکستان کی ثقافتی نمائندہ بن چکی ہے۔

