کراچی (رپورٹ) — سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے کمیشن آف انکوائری قائم کر دیا ہے، جس کی سربراہی جسٹس آغا فیصل کو سونپی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیشن گل پلازہ کی عمارت کے منظور شدہ نقشوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور قانونی منظوریوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ اس ضمن میں یہ بھی تحقیق کی جائے گی کہ آیا عمارت کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق کی گئی تھی یا اس میں خلاف ورزیاں موجود تھیں۔
کمیشن کے دائرہ اختیار میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے کردار کی جانچ بھی شامل ہوگی، تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی تو نہیں برتی گئی۔
انکوائری میں فائر سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے گا، جس میں فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹس، حفاظتی اقدامات اور سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آتشزدگی کے اسباب اور حالات کا تعین کیا جائے گا۔
کمیشن ریسکیو آپریشن کے دوران بروقت اور مؤثر کارروائی کا بھی جائزہ لے گا اور واقعے سے قبل اور بعد کی کسی بھی سطح پر ہونے والی غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرے گا۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیشن آٹھ ہفتوں کے اندر رپورٹ مکمل کرے گا، جبکہ کمشنر کراچی آفس کمیشن کو مکمل سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گا تاکہ تحقیقات کا عمل شفاف اور مؤثر طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
