بھارت کے مفرور ارب پتی کاروباری بھائی نیتن اور چیتن سندیسارا نے بینک قرض فراڈ کیس میں 57 کروڑ ڈالر کے تصفیے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، جس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے دونوں بھائیوں کے عدالت میں پیش ہونے کے لیے 17 دسمبر کی آخری تاریخ مقرر کردی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالتی دستاویز میں بیان کیا گیا ہے کہ دونوں بھائی بینک کے بھاری قرض کی ادائیگی نہ ہونے پر البانیہ کے پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے بھارت سے فرار ہوگئے تھے۔
دریاؤں پر 897 تجاوزات سینیٹ کمیٹی برہم تمام غیرقانونی تعمیرات 2 ماہ میں ختم کرنے کا حکم
رپورٹ کے مطابق سندیسارا گروپ دوا سازی، توانائی اور مختلف صنعتوں میں سرگرم تھا، تاہم دونوں بھائیوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کا غلط کام نہیں کیا۔ سپریم کورٹ میں پہلی بار سامنے آنے والے حکم میں ان کے وکیل مکُل روہتگی نے بتایا کہ ان کے مؤکل طویل عدالتی کارروائیوں سے بچنے کے لیے تصفیہ چاہتے ہیں اور اپنے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کی درخواست کرچکے ہیں۔
بھارت کا 2018 کا قانون مفرور معاشی مجرموں کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے اور نیتن و چیتن سندیسارا بھی اسی قانون کے تحت نامزد 14 بڑے مفرور معاشی ملزمان میں شامل ہیں۔ اس فہرست میں وجے مالیا اور نیرو مودی جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ سندیسارا خاندان نائیجیریا کی اسٹرلنگ آئل ایکسپلوریشن اینڈ انرجی پروڈکشن کا بھی مالک ہے، جو وفاقی آمدن کا ڈھائی فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔
بھارتی مالیاتی جرائم کی ایجنسی نے دونوں بھائیوں پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا بینک فراڈ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ سینئر وکیل دیبو پریو مولک کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں معاشی مجرموں کو اسی طرز کے تصفیوں کی راہ فراہم کر سکتا ہے، جس سے قرض دہندگان کے لیے اپنی پوری رقوم واپس لینا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کے کئی ممالک میں رائج اس طریقہ کار سے مشابہ ہے جہاں مقدمات کے مقابلے میں بھاری جرمانے بطور متبادل اختیار کیے جاتے ہیں۔
