سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں دریاؤں اور ندی نالوں پر قائم تجاوزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ملک بھر میں دریاؤں کے اطراف موجود تمام 897 تجاوزات کو دو ماہ کے اندر مکمل طور پر ختم کرنے کی مہلت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔
Monday, 24th November 2025
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دریاؤں پر تجاوزات سے متعلق رپورٹ بارہا مانگی گئی لیکن تاحال فراہم نہیں کی گئی، جو کمیٹی کی ہدایات پر عدم عملدرآمد کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ مون سون سے قبل تمام تجاوزات ختم نہ کی گئیں تو یہ مجرمانہ فعل تصور ہوگا اور اسے سنگین انتظامی غفلت سمجھا جائے گا۔ کمیٹی نے واضح ہدایت دی کہ آئندہ دو ماہ میں دریاؤں، نہروں اور آبی گزرگاہوں کے تمام راستے تجاوزات سے پاک کیے جائیں۔
فروری 2025 میں بھی سینیٹ کمیٹی برائے آبی وسائل نے دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کو ایک ماہ میں تمام غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت سیکریٹری آبی وسائل نے بتایا تھا کہ ڈیم سیفٹی ایکٹ کا مسودہ تیار ہے اور اسے دو ماہ میں حتمی شکل دے دی جائے گی، جبکہ ٹنل سیفٹی کو بھی ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔
فیڈرل فلڈ کمیشن کے حکام نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگست 2024 تک پنجاب کے بیشتر علاقوں میں دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں کوئی تجاوزات موجود نہیں تھیں، تاہم 18 فروری 2025 تک سرگودھا زون میں 153 اور ملتان زون میں 676 تجاوزات سامنے آئیں۔ لاہور اور ساہیوال زونز میں صورتحال تسلی بخش رہی جبکہ فیصل آباد، بہاولپور، ڈی جی خان اور پوٹھوہار زونز کا ڈیٹا تاحال فراہم نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے سپارکو سے متعلقہ سیٹلائٹ ڈیٹا فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹیں سیلابی تباہی کو جنم دیتی ہیں، اس لیے تمام زونز کا مکمل ڈیٹا جلد از جلد جمع کرایا جائے۔
