امریکا ایران معاہدے کی خبروں پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

لندن/نیو یارک (6 مئی 2026): امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور کشیدگی میں کمی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث توانائی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیشی اعلیٰ سطحی وفد کی کراچی آمد: سندھ کے توانائی منصوبوں پر بریفنگ، تھر کول میں گہری دلچسپی کا اظہار

بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) بھی 8 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب بین الاقوامی میڈیا اور امریکی حکام کی جانب سے یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری افزودگی پر پابندی قبول کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔

مزید یہ کہ ایک ابتدائی مفاہمتی مسودے میں آبنائے ہرمز میں تجارتی اور بحری آمدورفت پر پابندیوں کے خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی توقع نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی تیل کی قیمتوں میں کمی اس وقت دیکھی گئی تھی جب ایک بڑے توانائی منصوبے میں عارضی تعطل کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم موجودہ کمی زیادہ واضح اور سیاسی پیشرفت سے جڑی ہوئی ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں مزید استحکام اور قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!