سندھ وزیر محنت سعید غنی کا خطاب: ٹریڈ یونینز اور سوشل سیکورٹی کے نئے اقدامات پر زور

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ٹریڈ یونینز اور مزدوروں کی سیاست کو موجودہ دور کے مطابق بدلنا ضروری ہے، بصورت دیگر آنے والے 10 سالوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

موچکو چیک پوسٹ پر پولیس کی کامیاب کارروائی — لاکھوں روپے مالیت کا گٹکا و ماوا اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

کراچی پریس کلب میں آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن (ایپنک) کے سالانہ انتخابات میں کامیاب عہدیداران کی حلف برداری تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کے تحت بینظیر مزدور کارڈ کا آغاز ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد نہ صرف انڈسٹریل ورکرز بلکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیور، ٹھیلہ لگانے والے اور دیگر مزدوروں کو سوشل سیکورٹی نیٹ میں شامل کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیلف ایمپلائز اور دیگر غیر رسمی شعبوں کے مزدوروں سے معمولی کنٹریبیوشن لی جائے گی تاکہ وہ اس نظام کی ملکیت کا احساس کریں، اور اس کے بدلے میں ان کے بچوں کی تعلیم اور فیملی سمیت والدین کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

سعید غنی نے ٹریڈ یونینز کی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خرابیاں زیادہ تر کرپٹ مینجمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، یونینز خود کرپٹ نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدور یونینز کی بہتر پالیسی اور عمل درآمد سے نہ صرف اداروں کی ترقی ممکن ہے بلکہ حادثات اور کمزور کارکنوں کے مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کم سے کم اجرت اور دیگر لیبر حقوق کے نفاذ کے لیے محکمہ محنت بھرپور کوشش کر رہا ہے اور عوامی شکایات کی بنیاد پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مزدوروں کے مفاد میں متعدد اصلاحات شروع کی ہیں اور آئندہ نسل کے لیے یہ نظام مضبوط بنایا جائے گا۔

60 / 100 SEO Score

2 thoughts on “سندھ وزیر محنت سعید غنی کا خطاب: ٹریڈ یونینز اور سوشل سیکورٹی کے نئے اقدامات پر زور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!