کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا تفریق کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ہدایات پر روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سندھ وزیر محنت سعید غنی کا خطاب: ٹریڈ یونینز اور سوشل سیکورٹی کے نئے اقدامات پر زور
ترجمان ایس بی سی اے کے مطابق، سال 2025 میں اب تک 1,858 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے نوٹس پر ڈیمولیشن ٹیم نے پلاٹ B-96 گلشن فیصل، باتھ آئی لینڈ اور پلاٹ 192-C پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں جاری کام فوری طور پر بند کروا دیا اور G+1 اور دوسری منزل کو مسمار کیا۔
ادھر لیاری اور گزری کے علاقوں میں چار مختلف پلاٹس پر موجود انتہائی خطرناک عمارتوں کو بھی منہدم کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق نقشے کے برعکس تعمیر شدہ 23 عمارتوں میں غیر قانونی اضافی منزلیں اور دیگر تعمیرات مکمل طور پر مسمار کر دی گئی ہیں۔
ایس بی سی اے کی ٹیمیں ہفتہ اور اتوار کے روز بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کارروائیاں ڈسٹرکٹ ساؤتھ، کورنگی، سینٹرل اور ایسٹ کے مختلف علاقوں میں کی گئی ہیں، جن میں غیر قانونی اضافی منزلیں، پورشنز، دکانیں اور چھتیں بھی گرائی گئی ہیں۔
تمام کارروائیاں نقشے اور استعمال اراضی کے قوانین کی خلاف ورزی پر کی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں مستقبل میں بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔
