خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے 6 نومبر کو خبردار کیا کہ ملک میں پانی کی صورتحال نہایت خطرناک ہوچکی ہے، اگر بارشیں نہ ہوئیں تو "ہمارے پاس بالکل پانی نہیں بچے گا، اور شہریوں کو تہران چھوڑنا ہوگا”۔
سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا
ایران میں پانی کا بحران کئی برسوں سے شدت اختیار کر رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں کم بارشیں، غیر مؤثر زرعی طریقے، ڈیموں کی ضرورت سے زیادہ تعمیر، اور غیر قانونی کنوؤں کی کھدائی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں کی بدانتظامی کا بھی ثمر ہے۔
صدر پزشکیان نے بحران کا ذمہ دار سابق حکومتوں کی پالیسیوں، موسمیاتی تغیر اور پانی کے بے دریغ استعمال کو قرار دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں۔
پانی کی فراہمی میں کمی اور ذخائر آدھے رہ گئے
تہران کے مختلف علاقوں میں پانی کے دباؤ میں کمی کردی گئی ہے، جبکہ بعض اضلاع میں رات کے وقت پانی مکمل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ سرکاری نیشنل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی نے اگرچہ منظم پانی کی تقسیم کی خبروں کی تردید کی ہے، لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ پریشر کم کرنا ایک حفاظتی اقدام ہے۔
تہران کے پانی کے شعبے کے عہدیدار بہزاد پارسا کے مطابق دارالحکومت کے ذخائر جو پہلے 500 ملین مکعب میٹر پانی رکھتے تھے، اب 250 ملین مکعب میٹر پر آچکے ہیں۔ موجودہ استعمال کی رفتار پر یہ ذخائر دو ہفتوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔
پورے ملک میں 19 بڑے ڈیم مکمل طور پر خشک ہوچکے ہیں، جبکہ مشہد میں 40 لاکھ آبادی کے لیے پانی کے ذخائر 3 فیصد سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
موسمیاتی بحران اور توانائی کی قلت
گزشتہ گرمیوں میں ایران نے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجہ حرارت کے دوران پانی اور توانائی کی شدید قلت کے باعث کئی شہروں میں ہنگامی تعطیلات نافذ کیں۔ درجہ حرارت میں اضافے نے بخارات اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو مزید کم کر دیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے شمالی اور وسطی علاقوں میں پانی کا ذخیرہ غیر مستحکم ہوچکا ہے اور طویل المدتی حکمتِ عملی نہ اپنائے جانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
حکومت پر تنقید اور مذہبی اپیلیں
مقامی میڈیا نے حکومت پر پانی کے انتظام میں سیاسی مداخلت اور غیر اہل افراد کی تعیناتی کے الزامات لگائے ہیں، تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اسی دوران تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے روایتی انداز میں عوام سے "بارش کے لیے دعا اور صحراؤں میں اجتماعی دعا کی پرانی روایت کو زندہ کرنے” کی اپیل کی ہے۔
عارضی اقدامات
حکام نے کہا ہے کہ تہران کو دیگر علاقوں سے پانی منتقل کیا جا رہا ہے، اور شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ذخیرہ کرنے والے ٹینک اور پمپ نصب کریں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات وقتی ہیں اور دیرپا حل کے بغیر بحران گہرا ہوتا جائے گا۔
اصفہان کی ایک یونیورسٹی کی استاد نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا:
"یہ تمام اقدامات بہت کم اور بہت تاخیر سے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت صرف وعدے کرتی ہے، عملی اقدام کہیں نظر نہیں آتا۔”
