خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت کو ایران کے چاہ بہار بندرگاہ منصوبے میں 6 ماہ کے لیے امریکی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ “میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہمیں امریکی پابندیوں سے 6 ماہ کے لیے استثنیٰ دیا گیا ہے۔”
پنجاب اسمبلی میں ضلعی حکومتوں کے تحفظ کے لیے نئی آئینی ترمیم کی سفارش
ترجمان کے مطابق یہ استثنیٰ "حال ہی میں” دیا گیا ہے اور اپریل 2026 تک مؤثر رہے گا۔
گزشتہ سال نئی دہلی اور تہران نے چاہ بہار بندرگاہ کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ایک 10 سالہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بھارت کو بندرگاہ کے استعمال کی طویل المدتی اجازت ملی۔ تاہم، امریکا نے ستمبر میں ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے تحت اس منصوبے پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
امریکی قانون کے مطابق، جو کمپنیاں چاہ بہار منصوبے سے وابستہ رہیں گی ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی محدود ہو سکتی ہے۔
یہ رعایت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب پاکستان اور افغانستان اپنی غیر مستحکم سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے بعد نازک امن مذاکرات میں مصروف ہیں۔
چاہ بہار بندرگاہ افغانستان کے لیے ایک متبادل تجارتی راستے کے طور پر دیکھی جاتی ہے، اور امریکا نے ماضی میں اپنی افغان حکمتِ عملی کے تحت اس منصوبے کو بالواسطہ قبول کیا تھا، کیونکہ وہ نئی دہلی کو کابل حکومت کا اہم شراکت دار سمجھتا تھا۔
دوسری جانب، بھارت نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بھارتی دورے کے بعد نئی دہلی نے کابل میں اپنا سفارتی مشن مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔
ادھر امریکا اور بھارت کے تعلقات میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات بڑھا دیے، اور الزام لگایا کہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر یوکرین جنگ کو مالی طور پر سہارا دے رہا ہے۔
