کراچی (پریس ریلیز) — محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز حکومتِ سندھ اور یونیسکو (UNESCO) کے باہمی تعاون سے پاکستان میں ثقافتی نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ کا آغاز کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ کانفرنس اور ورکشاپ 21 اکتوبر 2025 سے بیچ لگژری ہوٹل کراچی میں جاری ہے، جو 23 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ تقریب کا انعقاد ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے نوادرات و آثارِ قدیمہ کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، پولیس، کسٹمز، ایف آئی اے، عدلیہ اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔
کانفرنس کا مقصد پاکستان میں ثقافتی ورثے اور نوادرات کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پالیسی سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
شرکاء نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وادی سندھ اور گندھارا جیسی عظیم تہذیبوں کا وارث ہے، جس کے تحفظ کے لیے قومی و عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی ورثے کی غیر قانونی تجارت نہ صرف تاریخ کے نقصان بلکہ معاشی و سماجی مسائل کا باعث بنتی ہے۔
ورکشاپ کے دوران مختلف سیشنز میں UNESCO 1970 کنونشن کے مؤثر نفاذ، قانونی فریم ورک کی بہتری اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔
اختتامی روز ماہرین کی جانب سے ایسی عملی سفارشات پیش کیے جانے کی توقع ہے جن سے نوادرات کی غیر قانونی تجارت کے سدباب کے لیے پائیدار اقدامات ممکن بن سکیں گے۔
