ڈی ایس پی سرجانی اشتیاق غوری نے کہا ہے کہ فی الحال کسی نئے آپریشن کا آغاز نہیں کیا جا رہا کیونکہ پولیو مہم اور دیگر انتظامی مصروفیات کے باعث پولیس نفری محدود ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے مسلسل چار روز تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران 1,200 سے زائد پکے مکانات، دکانیں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔
پاکستان اور افغانستان نے دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق کرلیا معاہدہ قطر اور ترکیے کی ثالثی سے طے پایا وزیرِ دفاع
پولیس حکام کے مطابق اب تک 50 ایکڑ سے زائد رقبہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد سے خالی کرایا جا چکا ہے، جبکہ افغان بستی میں تاحال تقریباً ایک ہزار خاندان موجود ہیں جو رضاکارانہ طور پر اپنی جگہیں خالی کر رہے ہیں۔ پولیس ان کے انخلاء کے عمل میں مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MDA) کی 200 ایکڑ سے زائد اراضی کو واگزار کرانا ہدف ہے، جس کے لیے پولیس، رینجرز، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پولیس حکام نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی افغان باشندوں کی ملک بدری سے متعلق پالیسی پر من و عن عمل درآمد کیا جا رہا ہے، اور اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار ہے تاکہ آپریشن منظم اور مؤثر انداز میں مکمل ہو سکے۔
