سربراہ پاکستان سنی تحریک علامہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی دراصل ایک فریب ہے، اسرائیل نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے نئی چالیں چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں مسلمان ممالک کو ثالث بنا کر دراصل امتِ مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سرجانی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں 50 ایکڑ سے زائد اراضی واگزار پولیس کا کہنا ہے فی الحال کوئی نیا آپریشن نہیں
علماء کرام سے ملاقات کے دوران علامہ شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ثالث اسلامی ممالک کمزور ثابت ہو رہے ہیں جبکہ مسئلہ فلسطین پر دو ریاستی منصوبہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی منصوبے کو تسلیم کرنے کا دوسرا مطلب مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم کرنا ہے، جسے پاکستان سنی تحریک مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اہلِ مغرب اسلام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے سے اسلام کی حقانیت کو جھٹلا نہیں سکتے۔
علامہ شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ثالثین کے کردار پر سوالیہ نشان ہیں۔ افغانستان کے ناعاقبت اندیش حکمران امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے اشاروں پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار اور ایٹمی قوت ہے، اور اس کی سالمیت پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ جارحانہ پالیسیوں کے بجائے پائیدار امن کی راہ اپنائے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہ سکے۔
