واپڈا کے مطابق ملک کے تینوں بڑے آبی ذخائر منگلا، تربیلا اور چشمہ اپنی مکمل گنجائش کے مطابق بھر گئے ہیں، جس کے بعد قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 33 لاکھ 16 ہزار ایکڑ فٹ ہو گیا ہے۔ یہ مقدار زرعی شعبے اور پن بجلی پیداوار کے لیے نہایت خوش آئند قرار دی گئی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پاک فوج کی کارروائی 7 دہشت گرد ہلاک میجر سبطین حیدر شہید
اعلامیے میں بتایا گیا کہ 1967 میں مکمل ہونے والا منگلا ڈیم گزشتہ چھ دہائیوں سے ملک کے اقتصادی استحکام، آبپاشی، سیلاب سے بچاؤ اور نیشنل گرڈ کو کم لاگت پن بجلی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ابتدائی طور پر منگلا ڈیم کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 58 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ تھی، جو مٹی بھرنے کے باعث 2004 تک کم ہو کر 46 لاکھ ایکڑ فٹ رہ گئی۔ اس کے بعد واپڈا نے منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ شروع کیا، جس کی تکمیل پر ڈیم کی صلاحیت بحال ہونے کے ساتھ ساتھ 29 لاکھ ایکڑ فٹ کا اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 75 لاکھ ایکڑ فٹ ہوگئی، جس سے منگلا پاکستان کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ بن گیا۔
مزید کہا گیا کہ منگلا ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی ابتدائی صلاحیت 1000 میگاواٹ تھی۔ آلات کے پرانے ہونے اور ریزنگ پراجیکٹ کے بعد پانی کی اضافی دستیابی کے پیش نظر واپڈا منگلا ریفربشمنٹ پراجیکٹ پر عمل کر رہا ہے، جو مرحلہ وار مکمل ہوگا۔ اس پراجیکٹ کے بعد منگلا ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھ کر 1310 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
