اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد حمزہ ہمایوں عدالت میں پیش ہوئے۔
تینوں بڑے آبی ذخائر بھر گئے منگلا ڈیم کی صلاحیت 75 لاکھ ایکڑ فٹ تک پہنچ گئی
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف لائسنس نہ ہونے پر مقدمہ درج کرنے سے شہریوں پر کریمنل ہسٹری کا بدنما داغ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایکسیڈنٹ کرے اور لائسنس نہ رکھتا ہو تو اس پر دفعہ 302 کا اطلاق ہو سکتا ہے، لیکن عام حالات میں صرف جرمانہ ہی عائد ہونا چاہیے۔
سی ٹی او اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اب تک ٹریفک پولیس نے کسی بھی شہری کے خلاف صرف لائسنس نہ ہونے پر مقدمہ درج نہیں کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کو بنے ہوئے 75 سال سے زائد ہو گئے ہیں، لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ ڈرائیونگ لائسنس لازمی ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس نے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی کہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر فوری مقدمہ درج نہ کیا جائے بلکہ شہریوں کو صرف جرمانہ کیا جائے۔ عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
