حیدر عباس رضوی کراچی کی بگڑی صورتحال پر شدید تشویش فوریجنگی بنیادوں پر اسٹریٹجک ماسٹر پلان نافذ کیا جائے

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما حیدر عباس رضوی نے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کراچی کی موجودہ سنگین صورتِ حال تشویش ناک ہے اور حکومتوں کو فوری طور پر جنگی بنیادوں پر کراچی اسٹریٹجک ماسٹر پلان نافذ کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہر کو دانستہ طور پر زوال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور عام آدمی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
لکی مروت سیکیورٹی فورسز کا آپریشن بھارتی پراکسی گروہ کے 17 دہشت گرد ہلاک

رضوی نے نشاندہی کی کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور شہر تقریباً 70 فیصد محصول پیدا کرتا ہے، لہٰذا اس کی بگڑی حالت کسی سے چھپی نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ روزمرہ زندگی میں شہری ڈمپر اور ہیوی ٹریفک کے رحم و کرم ہیں اور ڈمپر مافیا کی وجہ سے سالانہ 400 سے 600 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کھڑا رہا اور سیوریج کا آلودہ پانی، ابلتے گٹر اور ناقص نکاسی نظام شہریوں کو بیمار کر رہے ہیں جبکہ لوگ ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ رضوی نے دعویٰ کیا کہ ’’کراچی کے لوگ 20 سال سے پانی خرید کر پی رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے صوبائی انتظامیہ پر کتے کھلے چھوڑنے اور ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریبیز ویکسین کے لیے مختص ڈھائی ارب روپے کے باوجود کوئی شفاف حساب نہیں دیا گیا۔

رضوی نے سڑکوں، منصوبہ بندی اور تعمیراتی کاموں میں مبینہ بدعنوانی کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ورلڈ بینک کے اربوں روپے اور حالیہ منصوبے ضائع ہو گئے یا تباہ ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماسٹر پلان کے برخلاف کیے گئے اخراجات کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

قانونی تقاضوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کا ماسٹر پلان 1991 میں تیار کیا گیا اور 15 دسمبر 2007 کو بلدیاتی اسمبلی نے اس کی منظوری دی تھی، جسے بعد ازاں دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ رضوی نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 149 کے تحت وفاق اور صوبہ کراچی اسٹریٹجک ماسٹر پلان کو فوری طور پر نافذ کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پبلک لِٹیگیشن کے وکیل طارق منصور کی آئینی درخواست پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق موجود ہے اور اس کی پاسداری آئینی و قانونی تقاضہ ہے۔ مزید براں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وکیل طارق منصور کو موصولہ دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

آخر میں حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اگر کراچی کی بگڑی حالت کا فوری طور پر سدِ باب نہ کیا گیا تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی کیونکہ عوام کو ‘‘روٹی کپڑا چھوڑ کر گٹر کا ڈھکن مانگنے پر مجبور’’ نہیں کیا جا سکتا۔

One thought on “حیدر عباس رضوی کراچی کی بگڑی صورتحال پر شدید تشویش فوریجنگی بنیادوں پر اسٹریٹجک ماسٹر پلان نافذ کیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!