کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں عمارتیں تعمیر کرنے کے پیمانے دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، یہی فرق مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اگر نسلہ ٹاور یا پویلین اینڈ کی تعمیر میں خامیاں تھیں تو اربوں روپے مالیت کی عمارت کو گرانے کا کیا جواز تھا؟ غیر قانونی تعمیرات سنگین جرم ہیں لیکن اس میں خریدار کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ وہ بلڈر اور ایس بی سی اے کی منظوری پر اعتماد کرتا ہے۔
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے مرکزی دفتر میں فرنیچر و تعمیراتی میٹیریل ایکسپو کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ آباد کی جانب سے کامیاب ایکسپو پر وہ مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں ضروری ہیں، جبکہ سستی قیمت پر مٹیریل فروخت کرنے والے ادارے عوام کے لیے سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایس بی سی اے کا نیا قانون بنانے جا رہی ہے تاکہ کرپشن روکی جا سکے اور ادارے کی ساکھ بہتر ہو۔ غیر قانونی عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن خریداروں کو سزا دینا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے قوانین کے تحت غیر قانونی تعمیرات کو جرم قرار دیا جائے گا اور گرانے کا عمل آؤٹ سورس کیا جا سکے گا۔
سعید غنی نے کہا کہ عدالت کو غلط کام روکنے کا اختیار ہے لیکن نسلہ ٹاور جیسی عمارت کو گرانے جیسے فیصلے سے تعمیراتی شعبہ شدید متاثر ہوا۔ "کچھ ججوں کے پاس کومن سینس کیوں نہیں ہوتا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نیب کی فائلوں سے خوفزدہ نہیں، کیونکہ پہلے بھی ہمارے رہنماؤں کے خلاف درجنوں مقدمات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تنقید پر انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے امداد دینا کوئی غلط بات نہیں، بلکہ اس کی بنیاد پر مزید آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

