کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف — ایگزیکٹو ڈائریکٹر، افسران کے خلاف اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع

:کراچی اسٹاف رپورٹر
کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز (KIHD) میں بدعنوانی اور فنڈز کے ناجائز استعمال کا ایک اور بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رفعت سلطانہ، کی پنچ آفیسر فیصل، اور اکاؤنٹس آفیسر عاصم جمال کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

سندھی مسلم سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار — ایس بی سی اے افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں کی کرپشن

اینٹی کرپشن کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، مذکورہ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری فنڈز اور وسائل کا بے دریغ غلط استعمال کیا، جعلی اسائنمنٹس دیے، غیر قانونی تقرریاں کیں اور قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے کام اپنے من پسند ٹھیکیداروں اور رشتہ داروں کو نواز دیے۔

ذرائع کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رفعت سلطانہ نے حال ہی میں ایک پیتھالوجسٹ کو بغیر بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے تعینات کیا۔ اسی طرح کی پنچ آفیسر فیصل اور اکاؤنٹس آفیسر عاصم جمال پر الزام ہے کہ وہ گزشتہ تین برس سے بدعنوانی میں ملوث ہیں اور انسٹیٹیوٹ کے فنڈز کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ کینٹین کے کنٹریکٹ سے لے کر متعدد ٹینڈرز اور ورک آرڈرز تک، تمام کام بغیر کسی شفاف طریقہ کار اور منظوری کے، صرف مخصوص افراد کو دیے گئے۔ ان ٹھیکوں کے لیے اشتہار، کوالیفائیڈ اور ڈس کوالیفائیڈ کنٹریکٹرز کی فہرستیں اور تقابلی بیانات بھی قواعد کے مطابق تیار نہیں کیے گئے۔

اینٹی کرپشن حکام نے اس ضمن میں ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ساتھ مذکورہ دونوں افسران 12 ستمبر 2025 کو شام 3 بجے اینٹی کرپشن آفس میں پیش ہوں اور اپنی صفائیاں دیں۔ ان سے اپائنٹمنٹ لیٹرز، کینٹین کنٹریکٹ کی تفصیلات، ٹینڈرز اور ورک آرڈرز کے ریکارڈ سمیت جولائی 2023 سے جون 2025 تک کا بجٹ، ووچرز، کیش بک، بینک بک، بینک اسٹیٹمنٹ اور آڈٹ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

اینٹی کرپشن سرکل آفیسر شعیب احمد سومرو نے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اسے ’’انتہائی فوری‘‘ بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بڑے پیمانے پر کی جانے والی بدعنوانی کو روکا نہ گیا تو یہ ادارہ، جو عوام کی جان بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، مکمل طور پر کرپشن کی نذر ہو جائے گا۔

ACE District Central September 25

3 thoughts on “کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف — ایگزیکٹو ڈائریکٹر، افسران کے خلاف اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!