اسلام آباد/بیجنگ (اسٹاف رپورٹر) چین کی معروف شینڈونگ شِن شو گروپ کارپوریشن نے پاکستان میں بندرگاہوں کی ترقی اور جہاز سازی کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس قائم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تجویز کے مطابق یہ منصوبہ بندرگاہوں کی توسیع، جہاز سازی اور بلیو اکانومی میں تعاون کو بڑھانے کا ذریعہ ہوگا۔
بیجنگ میں وفاقی وزیر برائے میری ٹائم امور محمد جنید انور چوہدری سے ملاقات کے دوران کمپنی کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کے میری ٹائم مقاصد کے مطابق مشترکہ منصوبوں پر بات چیت کی۔
پی این ایس سی توسیعی منصوبے
وفاقی وزیر نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے توسیعی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے چینی کمپنی کو گوادر بندرگاہ سے منسلک لیزنگ اور فیڈر سروسز میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے پورٹ قاسم اور گوادر میں ڈرائی ڈاک اور فلوٹنگ ڈاک کی سہولت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سے تصدیق شدہ مچھلی پروسیسنگ اور آبی حیات کی تحقیق میں تعاون کی تجویز بھی دی تاکہ سی فوڈ کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
شپ ریسائیکلنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع
جنید انور چوہدری نے واضح کیا کہ کسی بھی شپ ریسائیکلنگ سہولت کو ہانگ کانگ کنونشن اور یورپی یونین کے ماحولیاتی معیارات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان اس نوعیت کے منصوبوں کے لیے زمین، سہولیات اور ریگولیٹری منظوری میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
چینی کمپنیوں کو گوادر میں سرمایہ کاری کی دعوت
ایک الگ ملاقات میں تیانجن ڈونگ جیانگ کمپری ہینسو فری ٹریڈ زون کے حکام سے وزیر نے شپ فنانسنگ اور لیزنگ آپشنز پر بات کی اور پی این ایس سی کے فلیٹ کو جدید ٹینکرز اور کنٹینر شپس کے ذریعے بڑھانے کی تجویز رکھی۔
انہوں نے ڈونگ جیانگ کمپنیوں کو گوادر میں بانڈڈ ویئر ہاؤسز، کولڈ چین سہولتیں اور بلک کارگو انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
چین-گوادر-افریقا لاجسٹکس کوریڈور کی تجویز
وفاقی وزیر نے "چین-گوادر-افریقا لاجسٹکس کوریڈور” قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ گوادر کو ایک اسٹریٹجک علاقائی تجارتی اور لاجسٹکس حب کے طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
فریٹ ہب اور فیڈر سروسز
منجمد خوراک اور گوشت کی چینی کمپنی فنجیےیون انٹرنیشنل کے ساتھ ملاقات میں جنید انور چوہدری نے گوادر کو لاجسٹکس سینٹر کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے فیڈر ویسل سروسز کی بحالی اور فریٹ ہب آپریشن کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کی تجویز دی۔
وزیر کا دورہ چین، وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری وفد کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے میری ٹائم اور بندرگاہی شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور خصوصاً گوادر کو ایک علاقائی تجارتی و لاجسٹکس مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔
