دریائے چناب اور ستلج میں بلند سطح کا سیلاب، ملتان و مظفرگڑھ کو سنگین خطرہ – لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

ملتان/لاہور/سیالکوٹ (نمائندگان) دریائے چناب میں ہیڈ محمدوالا اور شیر شاہ پل پر پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب پہنچنے کے باعث ملتان اور مظفرگڑھ کے شہری مراکز کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انتہائی بلند سطح کا سیلاب 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوا۔

بلوچستان کے 5 اضلاع میں امن و امان کے پیش نظر 6 ستمبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھنے کا فیصلہ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق دریائے ستلج میں بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کے پیش نظر قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بوریوالہ، عارفوالہ اور بہاولنگر کے لیے بھی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

ملتان میں نازک صورتحال

ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حمید سندھو نے بتایا کہ پانی اکبر فلڈ بند اور شیر شاہ پل تک پہنچ گیا ہے اور کئی دیہات زیر آب آچکے ہیں۔ ان کے مطابق گریوالہ چوک پر پانی کی سطح 414 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، اگر یہ 417 فٹ سے بڑھ گئی تو ہیڈ محمدوالا پر بند توڑنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اب تک ضلع کے 4 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

کمشنر ملتان عامر کریم خان کے مطابق ہیڈ محمدوالا پر پانی کی سطح 413.66 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو 417 فٹ کی حد سے محض چند فٹ کم ہے۔

ماہرین کی تنقید

سابق محکمہ انہار کے ماہرین نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو ہیڈ محمدوالا پر پانی کی سطح سے متعلق غیر فنی معلومات فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق اصل خطرناک حد 417 فٹ سے کم ہے اور یہ پیمانہ 1992 کے سیلاب کی بنیاد پر طے کیا گیا تھا، جب موجودہ پل تعمیر نہیں ہوا تھا۔

بھارتی ڈیموں سے خطرہ

چیئرمین پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت نے ڈیموں کے گیٹ کھولنے کے حوالے سے پاکستان کو 7 انتباہ جاری کیے ہیں جن میں سے 3 پچھلے 24 گھنٹوں میں موصول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ راوی، ستلج اور چناب مزید متاثر ہوں گے اور اب تک پنجاب کے متاثرہ علاقوں سے 38 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

سیالکوٹ کا زمینی رابطہ منقطع

شدید بارش اور طغیانی کے باعث سیالکوٹ کے علاقے بجوات کے 85 دیہات شہر سے کٹ گئے ہیں، پل ٹوٹ جانے کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور اشیائے ضروریہ کی رسد میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگئی۔

گلگت بلتستان میں اچانک سیلاب

دیامر کی دیورال وادی میں اچانک سیلاب سے 20 گھر اور کھیت متاثر ہوئے۔ اسسٹنٹ کمشنر وسیم عباس کے مطابق 5 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے تاہم بروقت اطلاع سے درجنوں افراد محفوظ رہے۔

نئی بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے 6 سے 9 ستمبر تک ملک بھر میں مزید بارشوں اور مون سون کے نئے اسپیل کی پیش گوئی کی ہے۔ پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے کئی اضلاع میں شدید بارش اور آندھی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “دریائے چناب اور ستلج میں بلند سطح کا سیلاب، ملتان و مظفرگڑھ کو سنگین خطرہ – لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!