وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشتگردی میں غیرملکی طاقتیں ملوث ہیں جبکہ جعفر ایکسپریس حملے میں بیرونی ہاتھ کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک نے دہشتگردی کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا لیکن دنیا اب ان کے جھوٹے بیانیے پر یقین نہیں کرتی، گھناؤنے جرائم کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو جوابدہ ہونا ہوگا۔
سندھ بیراجز میں پانی کی آمد و اخراج میں اضافہ، کوٹری اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلابی دباؤ
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی پورے خطے کیلئے خطرہ ہیں اور ان کی ہر شکل قابل مذمت ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جامع مکالمے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کے بجائے ڈائیلاگ کا حامی ہے اور افغانستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتا ہے۔ شہبازشریف نے غزہ کے حالات کو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ایران پر اسرائیل کی بلاجواز جارحیت قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم نے شاندار میزبانی پر صدر اور حکومت چین کا شکریہ ادا کیا اور ازبکستان و کرغزستان کو یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں تعاون اور انضمام کے فروغ کیلئے پاکستان کے دیرپا عزم کی عکاس ہے۔ چین کی ترقی صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت کا نتیجہ ہے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان سی پیک کو چین کے ساتھ بہترین منصوبہ سمجھتا ہے، ہم بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید بارشوں، گلوبل وارمنگ، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے، جس سے قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ انفرااسٹرکچر، جائیداد، فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم حکومت ان تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے نئی امید اور بہتری کا راستہ تراش رہی ہے۔
