فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے مطابق سندھ کے بیراجز میں پانی کی آمد و اخراج میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گڈو بیراج پر تین لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلہ پہنچ گیا جبکہ تریموں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث اپ اسٹریم پر ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ کا ریلہ نوٹ کیا گیا۔
مانیٹرنگ سیل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گڈو بیراج پر اپ اسٹریم 3 لاکھ 18 ہزار 229 اور ڈاؤن اسٹریم 3 لاکھ 3 ہزار 877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر بیراج پر اپ اسٹریم میں 2 لاکھ 85 ہزار 487 اور ڈاؤن اسٹریم پر اخراج 2 لاکھ 34 ہزار 717 کیوسک رہا۔
کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم 2 لاکھ 73 ہزار 844 اور ڈاؤن اسٹریم پر اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 739 کیوسک نوٹ کیا گیا۔ حیدرآباد کے قریب کوٹری بیراج میں اس وقت نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جہاں آنے والے دنوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت حسین آباد پارک کو عوام کے لیے بند کردیا ہے۔
ترجمان زبیر چنہ نے کہا کہ سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی میں سیلاب کے دوران خطرات سامنے آئے، تاہم محکمہ آبپاشی نے ان تمام پوائنٹس پر بہتری کے اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ نے پیشگی حکمتِ عملی کے تحت تمام حساس مقامات پر عملہ تعینات کردیا ہے اور ضروری مشینری و ساز و سامان فراہم کردیا گیا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے محفوظ رکھا جاسکے۔
