اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی سروسز بند کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں یوٹیلٹی اسٹورز عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج سے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی سروسز معطل کردی گئی ہیں۔
ڈکی بھائی نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف سیشن کورٹ لاہور میں اپیل دائر کردی
انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے 19 ارب 50 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج منظور کرلیا گیا ہے، جس پر سب نے اتفاق کیا۔ پیکیج کے تحت مستقل کے ساتھ ساتھ ڈیلی ویجرز اور کنٹریکٹ ملازمین کو بھی معقول ریلیف دیا جائے گا، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن میں 11 ہزار سے زائد ملازمین ہیں، جن کے مستقبل کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ چھوٹے وینڈرز کے لیے 2 ارب روپے کا پیکیج منظور ہوچکا ہے جبکہ بڑے وینڈرز کو بعد میں ادائیگیاں ہوں گی۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا معیشت میں اہم کردار رہا لیکن ادارے کو چلانا ممکن نہ رہا، کیونکہ ہر ماہ 60 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا تھا۔ حکومت کو ملازمین کی تنخواہیں اور آپریشنز چلانے کیلئے مستقل مالی سپورٹ فراہم کرنا پڑتی تھی۔ ہارون اختر کی کوششوں کے باوجود ادارہ سنبھل نہ سکا، جس کے بعد وزیراعظم نے سروسز بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
