کراچی : کورنگی کی لکھنؤ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے احکامات مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔ مکینوں کے مطابق سوسائٹی ایڈمنسٹریٹر رضوان احمد اعوان اور بلڈرز مافیا کی ملی بھگت سے بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیرات بدستور جاری ہیں۔
ضلع وسطی میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے پینل ڈسکشن اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
تفصیلات کے مطابق 8 رہائشی پلاٹوں کو غیر قانونی طور پر 31 حصوں میں تقسیم کر کے کثیر المنزلہ منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن کی آن لائن بکنگ ڈیڑھ کروڑ روپے فی پورشن تک کی جا رہی ہے۔ رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منصوبے کی تکمیل پر 93 پورشنز کا بوجھ سوسائٹی کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کر دے گا۔
مکینوں نے الزام لگایا کہ پولیس ایک بااثر سیاسی شخصیت کے دباؤ میں کارروائی سے گریزاں ہے جبکہ ڈیمولیشن ٹیم کو قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ذرائع کے مطابق تاخیر کا مقصد سندھ ہائیکورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کرنے کا انتظار ہے۔
رہائشیوں نے وزیر بلدیات سعید احمد غنی اور ڈی جی SBCA شاہ میر بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات منہدم کی جائیں، بصورت دیگر ان پلاٹوں پر خریدوفروخت کرنے والے اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
