کراچی (اسٹاف رپورٹر) وومن ایکشن فورم (WAF) سندھ کی پانچ سالہ رپورٹ "زخم گننا” میں انکشاف ہوا ہے کہ 2020 سے 2025 کے دوران سندھ بھر میں 545 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ 622 خواتین نے خودکشیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی، اغوا اور زبردستی شادی جیسے جرائم بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
روما مشتاق مٹو کی کاوش سے عیسیٰ نگری کی بند بجلی بحال، عوام کی جانب سے بلاول بھٹو کا شکریہ
حیدرآباد پریس کلب میں رپورٹ کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، ڈاکٹروں، خواتین پولیس افسران اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
رپورٹ پیش کرتے ہوئے معروف دانشور اور وومن ایکشن فورم کی رہنما امر سندھو نے کہا کہ "زخم گننا” ان زخموں کی گواہی ہے جو عورتوں کے جسموں اور زندگیوں پر ریاست، معاشرے اور اداروں کے ہاتھوں لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی بے حسی، عدالتوں کی خاموشی اور پولیس کی نااہلی عورتوں پر ظلم کے تسلسل کو تقویت دیتی ہے۔
❖ اہم اعداد و شمار (2020-2025):
-
قتل ہونے والی خواتین: 545
-
خودکشی کرنے والی خواتین: 622
-
غیرت کے نام پر قتل: 310
-
جنسی زیادتی (ریپ) کے کیسز: 228
-
اغوا یا زبردستی شادی کے کیسز: 190
-
ریپ کے بعد قتل: 51
رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کی خودکشیاں انفرادی فیصلے نہیں بلکہ ریاستی اور سماجی جبر کے خلاف ایک "خاموش احتجاج” ہیں۔ غربت، تعلیم کی کمی، گھریلو تشدد، پسند کی شادی پر پابندی اور جنسی بلیک میلنگ وہ بنیادی وجوہات ہیں جنہوں نے خواتین کو خودکشی جیسے انتہائی قدم پر مجبور کیا۔
امر سندھو نے کہا کہ "خاموشی، غیر فعال قانون سازی اور پدرشاہی سوچ وہ بنیادی ہتھیار ہیں جن کے ذریعے عورت کی زندگی اور آزادی پر کنٹرول حاصل کیا جاتا ہے۔”
❖ وومن ایکشن فورم کے مطالبات:
-
خواتین پر ہر قسم کے تشدد کو ریاستی جرم قرار دیا جائے۔
-
متاثرہ خواتین کے لیے خصوصی عدالتیں اور تحفظ کے مؤثر نظام قائم کیے جائیں۔
-
ہر سال کی رپورٹ کی بنیاد پر سرکاری پالیسیوں میں اصلاحات لائی جائیں۔
-
اسکولوں، میڈیا، پولیس اور عدلیہ میں صنفی حساسیت کی تربیت لازمی کی جائے۔
-
ہر رپورٹ شدہ کیس کی فالو اپ رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
تقریب کے اختتام پر امر سندھو نے اعلان کیا کہ:
"یہ رپورٹ زخم گننے کے بجائے زخموں کو چیخنے دینے کی کوشش ہے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گی، ہم سوال کرتی رہیں گی اور ہم لڑتی رہیں گی، جب تک ہر عورت کی زندگی محفوظ، آزاد اور باعزت نہ ہو جائے۔”
