غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، قحط اور تباہی کے خلاف مسلم ممالک اور عالمی برادری سے فوری احتجاج اور عملی اقدامات کی اپیل کی ہے۔ حماس نے دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں کے باہر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو عالمی سطح پر آواز بلند کی جائے۔
کوئٹہ: قمبرانی روڈ پر غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی اور بھانجے کو قتل کردیا
حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے، جہاں بھوک، بمباری اور طبی سہولیات کی کمی سے انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔
ادھر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے بھی اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور صیہونی حکومت کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
جدہ میں غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ فوری جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرے، غزہ میں انسانی امداد کی بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے اور اسرائیل کا محاصرہ ختم کرایا جائے۔
او آئی سی نے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل صرف دو ریاستی حل ہے، جس کے تحت فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ تنظیم نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ اسرائیلی مظالم کو ہر بین الاقوامی فورم پر مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ اور دی البلاح میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 6 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ القسام بریگیڈ کے ساتھ جھڑپ میں 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
