ڈسٹرکٹ کورنگی میں پولیس وردی میں ملبوس محافظ جرائم پیشہ عناصر کا روپ دھار چکے ہیں۔ بٹھائی چوکی کے انچارج محمد خان جدون عرف "پی ایس پی” پر الزام ہے کہ انہوں نے نان کسٹم اشیاء سے بھرے ٹرک کو پکڑنے کے بعد قانونی کارروائی کے بجائے ذاتی مفاد کے تحت کارروائی کی۔
حماس کی مسلم ممالک اور عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کیخلاف احتجاج کی اپیل
ذرائع کے مطابق دس روز قبل محمد خان جدون نے اپنی نفری کے ہمراہ ایک ٹرک (نمبر TLE-171) کو روکا، جس میں تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے نان کسٹم سگریٹ اور خشک دودھ موجود تھا۔ تاہم، اس قانونی گرفتاری کو قانونی شکل دینے کے بجائے چوکی انچارج نے ٹرک ڈرائیور اور کلینر کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انہیں دھمکایا اور یہاں تک کہ کہا کہ "ویرانے میں مار کر پھینک دیتے ہیں”۔
ڈرائیور اور کلینر کو دھمکانے کے بعد ٹرک کا سارا مال اتار لیا گیا اور انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ "شکر کرو جان بچ گئی، اب فوراً نکل جاؤ اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا”۔ بعد ازاں، باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ نان کسٹم اشیاء کسی اور پارٹی کو 12 لاکھ روپے میں فروخت کردی گئیں۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ محمد خان جدون ایس ایس پی کورنگی کا قریبی سمجھا جاتا ہے، اسی بنا پر خود کو "پی ایس پی” کہلواتا ہے۔
ادھر ڈسٹرکٹ کورنگی میں عوام سڑکوں پر ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جیولرز مارکیٹ کورنگی نمبر 2 میں دن دہاڑے ڈکیتی مزاحمت پر 32 سالہ متین شدید زخمی ہوا جو زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگیا۔ اسی واقعے میں ایک خاتون کو بھی ٹانگ پر گولی لگی۔
پولیس کی مجرمانہ غفلت کے باعث ماڈل کالونی اور عوامی تھانہ حدود میں بھی شہری مسلسل لٹ رہے ہیں۔ شیٹ نمبر 19، فریا اسکول، اور Y ایریا میں متعدد وارداتیں ہوچکی ہیں جن میں بینک سے رقم لاکر گھر پہنچنے والے ساس اور داماد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بٹھائی چوکی کی حدود میں 11 جولائی کو صبح کے وقت دودھ اور چائے کے ہوٹل پر بیٹھے افراد کو بھی لوٹ لیا گیا۔ 2 جولائی کو سندھ پولیس میں کام کرنے والے ٹیکنیشن عمیر علی کو بھی قتل کر دیا گیا، مگر پولیس تاحال مجرموں کو پکڑنے میں ناکام ہے۔
یہ تمام واقعات پولیس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ایس ایس پی کورنگی عوامی رابطے سے مکمل لاتعلق ہیں، جبکہ ہمیشہ کی طرح ڈی ایس پی کورنگی عوام کے درمیان موجود رہتے ہیں اور فوری طور پر موقع پر پہنچتے ہیں۔
