وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جو کہ پاکستان کے شعبہ ہوا بازی اور قومی ایئرلائن کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس ای او بی آئی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری وزیراعظم کا وزیروں کی کارکردگی جانچنے کا اعلان
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ غلام سرور خان نے اپنے ہی ادارے پر غیر ذمہ دارانہ الزامات لگا کر نہ صرف قومی وقار کو ٹھیس پہنچائی بلکہ ان کے بیان کے نتیجے میں پی آئی اے پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غلام سرور خان نے آج تک اپنے بیان کی کوئی وضاحت نہیں دی اور اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت پی آئی اے کے ذریعے سفر کرتی ہے اور پروازوں کی بحالی سے ان کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس پیش رفت سے نہ صرف قومی ایئرلائن کی بین الاقوامی ساکھ بحال ہوگی بلکہ آئندہ نجکاری کے عمل میں پی آئی اے کی مالی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی دلچسپی لے کر پی آئی اے کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے عالمی ریگولیٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی رہنمائی سے یہ سنگ میل عبور کیا گیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد نیویارک کے لیے بھی پی آئی اے کی پروازیں بحال کی جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر فضائی آپریشنز کے لیے نئے لائسنس حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ دیگر ممالک میں بھی قومی ایئرلائن کی پروازیں بحال کی جا سکیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی آئی اے کی بحالی ایک قومی سنگ میل ہے، جس میں کئی افراد اور اداروں کی محنت شامل ہے، اور یہ دن پوری قوم کے لیے یادگار دن ہے۔
