ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ عناصر جعلی یونیفارم، ہیلمٹ اور بیگز کے ذریعے خود کو فوڈ یا رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کرکے منشیات کی ترسیل جیسے غیرقانونی مقاصد کے لیے سروسز کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
پی آئی اے پر عائد بین الاقوامی پابندی ختم برطانیہ کیلئے پروازوں کی بحالی خواجہ آصف
ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ اس معاملے پر کراچی میں معروف فوڈ ڈلیوری اور رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں منشیات کی ترسیل کے لیے رائیڈر سروسز کے مبینہ استعمال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ڈی آئی جی کے مطابق، کمپنیوں نے پولیس کو آگاہ کیا کہ بعض افراد جعلی برانڈڈ سامان کے ذریعے خود کو مستند رائیڈر ظاہر کرکے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس خطرناک رجحان سے نمٹنے کے لیے پس منظر کی سخت جانچ، تصدیق، رجسٹریشن اور رائیڈرز کی تربیت جیسے اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
کمپنیوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مشکوک یا غیر رجسٹرڈ رائیڈرز کے اکاؤنٹس فوری طور پر معطل کریں گے اور بار بار کسی مخصوص مقام سے آنے والے مشکوک آرڈرز پر نظر رکھیں گے تاکہ منشیات یا دیگر غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔
اسد رضا کے مطابق، پولیس اور کمپنیوں کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ جعلی رائیڈرز کی شناخت اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ رائیڈرز کو باقاعدہ بریفنگ اور تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قانونی اور سیکیورٹی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں پولیس اور تعلیمی اداروں نے مشترکہ حکمت عملی اپنائی تھی تاکہ طلبہ میں بڑھتی ہوئی منشیات کے رجحان کو روکا جا سکے، جبکہ مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست فوڈ یا کورئیر ڈلیوری وصول کرنے پر پابندی بھی عائد کی تھی۔
