ایران سے منسلک ہیکرز کی نئی دھمکی ٹرمپ کیمپ سے چوری شدہ ای میلز افشا کرنے کا عندیہ

ایران سے منسلک ہیکنگ گروپ "رابرٹ” نے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ایک بار پھر سرخیوں میں آ کر دعویٰ کیا ہے کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلقے سے چوری کی گئی مزید ای میلز افشا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ دھمکی امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور 12 روزہ فضائی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
نصیرالدین شاہ کا دلجیت دوسانجھ کی حمایت میں بیان ہانیہ عامر کے ساتھ کام پر تنقید کو بے بنیاد قرار دے دیا

رائٹرز کے مطابق، ہیکر جس نے "رابرٹ” کے تخلص سے آن لائن بات چیت کی، اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ٹرمپ کے قریبی افراد کی تقریباً 100 گیگا بائٹس ای میلز موجود ہیں۔ ان میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز، وکیل لنڈسے ہالیگن، مشیر راجر اسٹون اور اداکارہ اسٹیفنی کلیفورڈ (ڈینیئلز) کی ای میلز شامل ہیں۔

ہیکرز کا مقصد

رابرٹ نے عندیہ دیا کہ یہ مواد بیچا بھی جا سکتا ہے، تاہم اس نے لیکس کے مواد کی تفصیل نہیں دی۔
رائٹرز پہلے ہی ان لیکس میں سے کچھ مواد کی توثیق کر چکا ہے، جن میں ٹرمپ اور رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے وکلا کے درمیان مالیاتی معاہدے، ڈینیئلز کے ساتھ تصفیے اور ٹرمپ کی مہم سے متعلق داخلی معلومات شامل تھیں۔

امریکی اداروں کا ردعمل

امریکی محکمہ انصاف نے ستمبر 2024 میں ایک فرد جرم میں الزام عائد کیا تھا کہ ایران کے پاسداران انقلاب اس سائبر مداخلت کے پیچھے تھے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بیان میں کہا:

"قومی سلامتی کی خلاف ورزی میں ملوث ہر فرد کے خلاف مکمل تحقیقات اور کارروائی کی جائے گی۔”

سائبر ڈیفنس ایجنسی CISA نے اسے "ڈیجیٹل پروپیگنڈا اور منصوبہ بند سمیر مہم” قرار دیا، جس کا مقصد ٹرمپ اور سرکاری اہلکاروں کو بدنام کرنا ہے۔

ماہرین کی رائے

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر فریڈرک کاگن کے مطابق، ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں غیر روایتی اور غیر متناسب ذرائع سے جواب دینا چاہتا ہے، تاکہ کشیدگی کو فوجی سطح پر مزید نہ بڑھایا جائے۔

ہیکرز کی متضاد حکمت عملی

دلچسپ بات یہ ہے کہ "رابرٹ” نے ٹرمپ کے 2024 میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد کہا تھا کہ مزید لیکس کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن حالیہ کشیدگی اور ایران-اسرائیل تنازع کے بعد گروپ نے دوبارہ سرگرمی شروع کر دی ہے۔

خدشات

امریکی سائبر سیکیورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ایرانی ہیکرز نے اب تک زیادہ تخریبی سائبر حملے نہیں کیے، تاہم امریکی انفراسٹرکچر اور نجی ادارے اب بھی ان کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

One thought on “ایران سے منسلک ہیکرز کی نئی دھمکی ٹرمپ کیمپ سے چوری شدہ ای میلز افشا کرنے کا عندیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!