وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں قائم صحت سہولت پروگرام کے مرکزی ڈیٹا سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں پروگرام کے جدید ڈیجیٹل نظام اور مستقبل کی حکمت عملیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ایران سے منسلک ہیکرز کی نئی دھمکی ٹرمپ کیمپ سے چوری شدہ ای میلز افشا کرنے کا عندیہ
وزیر صحت کو بتایا گیا کہ صحت سہولت پروگرام نے ای-کلیم سسٹم متعارف کروا کر پیپر لیس ماحول کو فروغ دیا ہے اور اب تک پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل ہیلتھ ڈیٹا بیس قائم کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل کیمز سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور اس موقع پر کہا:
"پاکستان میں اس وقت کوئی یونیورسل میڈیکل ریکارڈ موجود نہیں، جس کی وجہ سے مریض کی ماضی کی طبی ہسٹری تک فوری رسائی ممکن نہیں۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ صحت سہولت پروگرام کے نیشنل ڈیٹا بیس میں جلد ایک جامع یونیورسل میڈیکل ریکارڈ سسٹم قائم کیا جائے گا، جس میں ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہوگا۔
وفاقی وزیر کے مطابق، اس سسٹم کے تحت پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا مکمل لائیو طبی ڈیٹا موجود ہوگا، جس سے مریضوں کو فوری، درست اور بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا:
"ڈاکٹرز کسی بھی اسپتال میں مریض کا ماضی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ ایک کلک پر حاصل کر سکیں گے۔ صحت کا جامع ڈیٹا، وزارت صحت کو زیادہ مؤثر عوامی پالیسیاں بنانے میں مدد دے گا۔”
