بھارتی سینما کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے فلم "سردار جی 3” میں دلجیت دوسانجھ اور پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ کام پر ہونے والی تنقید کو سیاسی مقاصد پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے دلجیت کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں کاسٹنگ کا فیصلہ اداکار کا نہیں بلکہ ہدایت کار کا اختیار ہوتا ہے۔
کلب ورلڈ کپ میں برازیلی طاقت کا مظاہرہ فلومینینس نے انٹر میلان کو 0-2 سے شکست دے دی
نصیرالدین شاہ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا:
"میں دلجیت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوں۔ یہ ‘جملا پارٹی’ کے وہ لوگ ہیں جو موقع کی تاک میں تھے کہ کب حملہ کیا جائے، اور اب انہوں نے بہانہ بنا لیا۔ دلجیت فلم کی کاسٹنگ کا ذمہ دار نہیں، یہ فیصلہ ہدایت کار کا ہوتا ہے — جس کا نام شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو — جبکہ دلجیت دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"میرے پاکستان میں قریبی رشتہ دار اور عزیز دوست ہیں، اور کوئی مجھے ان سے ملنے یا محبت کے پیغام بھیجنے سے نہیں روک سکتا۔ ان غنڈوں کو کیا یہ چاہیے کہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان ذاتی تعلقات ختم ہو جائیں؟”
یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ابھر آئی ہے، اور اسی تناظر میں فلم "سردار جی 3” میں ہانیہ عامر کی شمولیت پر سوشل میڈیا پر دلجیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل فلم "چمکیلا” کے ہدایت کار امتیاز علی بھی دلجیت کی حمایت میں سامنے آ چکے ہیں اور کہا تھا کہ
"دلجیت چیزوں کو جوڑنے والا فنکار ہے، نہ کہ توڑنے والا۔”
نصیرالدین شاہ کے اس واضح اور دوٹوک مؤقف کے بعد فلمی حلقوں میں اس بحث کو نئی سمت مل گئی ہے، اور سوشل میڈیا پر صارفین بھی تقسیم نظر آ رہے ہیں۔
