کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام بنیادی مسائل کا شکار ہے اور صرف اسپتال بنانے سے بہتری ممکن نہیں، ہمیں پہلے پانی، سیوریج اور صفائی جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔
تبدیلی کے دعوےدار دوربین سے بھی غائب، پیپلزپارٹی عوام کی خدمت میں پیش پیش ہے، احمد رضا
وہ سلیم حبیب یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اہم کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی ادویات اور مشینری کے فروغ کے لیے "پاکستان میڈ موومنٹ” کا آغاز کرنا تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں 78 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پھیل رہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے بیماریوں کی روک تھام پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ “ہم خود نظام کو برباد کرتے ہیں اور پھر اسپتال اور مشینری کی بات کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آج بھی شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ سیوریج کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہوچکا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی اور ذیابیطس جیسے امراض میں پاکستان عالمی فہرست میں سرفہرست ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے اعلان کیا کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے صوبوں کو جلد ایک جامع فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دوا کی اصلیت، قیمت اور معیاد جانچنے کے لیے ایک جدید موبائل ایپ پر کام جاری ہے، اور جلد تمام ادویات پر کیو آر کوڈ لازم قرار دیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 10 فیصد ادویات غیر معیاری ہیں اور اس سنگین مسئلے پر فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف اسپتال بنانا کافی نہیں، جب تک ہم بیماریوں کی جڑ پر قابو نہیں پائیں گے، صحت کا نظام مستحکم نہیں ہو سکتا۔
