کراچی: پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لے کر عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ قرضوں پر مبنی بجٹ اور اس کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنا کسی طور مناسب نہیں۔ اگر حکومت واقعی ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے آئی ایم ایف سے فوری نجات حاصل کرنا ہوگی۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر اے ایس ایف کی کارروائی، بحرین جانے والا مسافر آئس اسمگلنگ کرتے پکڑا گیا
مرکز اہلسنت سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ نے عوام پر مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ماچس کی ڈبیا سے لے کر روزمرہ استعمال کی اشیاء اور ادویات تک ہر چیز پر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جس سے عوامی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بنایا گیا بجٹ عوامی مفادات کے خلاف ہے اور حکومت مکمل طور پر عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 37 ہزار روپے میں چار افراد پر مشتمل خاندان کس طرح زندگی گزار سکتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو سرکاری مقررہ تنخواہیں بھی نہیں ملتیں، کرپشن اور اقرباء پروری کے خاتمے کے بغیر عوام کو ریلیف ممکن نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجٹ کی منظوری سے قبل عوامی ریلیف کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، غریب پر لگائے گئے بے جا ٹیکسز کم کیے جائیں اور وزیروں کی شاہانہ اخراجات میں کٹوتی کی جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
