ایوانِ صدر میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے پاکستان میں چین کے سفیر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات، پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بھارت کی اشتعال انگیزی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ، جنگی مشق انڈس کے دوران آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ
صدرِ مملکت نے گفتگو کے دوران بھارت کی جانب سے حالیہ غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رویہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، اور یہ رویہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کے منافی ہے۔
اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان ’آہنی برادر‘ ہیں، اور چین ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور علاقائی امن کے مؤقف کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے پہلگام واقعے پر پاکستان کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ چین جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
صدر زرداری نے چین کی دیرینہ حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، اور یہی دونوں ممالک کے درمیان آزمودہ دوستی کا ثبوت ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل، سفارتی عملے کو نکالنے، اور ویزے منسوخ کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں، جس پر پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے سفارتی عملے کو بھی محدود کرنے اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے اور اگر اس پر قدغن لگائی گئی تو اسے جنگ تصور کیا جائے گا۔
جنوبی ایشیا میں دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی پر دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ، امریکا، چین، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل نے دونوں ملکوں سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے، مگر بھارت کی ہٹ دھرمی بدستور جاری ہے۔
