بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔ محکمہ انہار پنجاب کے مطابق گزشتہ روز ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 87 ہزار کیوسک تھی جو اب کم ہو کر صرف 10 ہزار 800 کیوسک رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے زرعی شعبے اور آبی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔
صدر آصف زرداری اور چینی سفیر کی ملاقات علاقائی کشیدگی، پہلگام واقعہ اور پاک چین دوستی پر گفتگو
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اگلے مرحلے میں مقبوضہ کشمیر میں واقع کشن گنگا ڈیم سے پانی روکنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد دریائے جہلم میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد سفارتی عملے کو نکالنے، ویزوں کی منسوخی اور دیگر جارحانہ اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا۔
جواباً، پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی اقدامات کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پانی بند کرنا یا رخ موڑنا براہ راست جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ کمیٹی نے بھارتی سفارتی عملے کو محدود کرتے ہوئے متفقہ طور پر سفارتی سطح پر جوابی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان نے اس صورتحال سے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو آگاہ کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں دو جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی مگر بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی اور الزامات کی سیاست جاری رکھی ہے۔
اس بحران پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، امریکی محکمہ خارجہ، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل نے دونوں ممالک سے تحمل اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی ہے، تاہم بھارت کی جارحانہ پالیسی بدستور برقرار ہے۔
