نئی دہلی/اسلام آباد – بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات ایک بار پھر بھارت پر ہی الٹ پڑنے لگے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے جنگی جنون اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سخت اقدام اٹھاتے ہوئے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کا فوری اثر بھارت کی بڑی ایئر لائنز پر پڑا ہے۔
گلزار ہجری اسکیم 33 میں پانی چوروں کے خلاف بڑا ایکشن، دو غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹم (NOTAM) کے تحت ایک ماہ تک بھارت کی کوئی بھی پرواز پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکے گی، البتہ غیر ملکی ایئر لائنز اس بندش سے مستثنیٰ ہوں گی۔
پاکستانی فضائی حدود سے روزانہ تقریباً 70 سے 100 بھارتی پروازیں گزرتی تھیں، جن میں اکثریت دہلی، ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ اور گوا جیسے بڑے شہروں سے یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کی جانب جانے والی پروازوں کی تھی۔
ایئر انڈیا، انڈیگو، اسپائس جیٹ اور دیگر ایئرلائنز کو اپنے روٹس تبدیل کرنے پڑے ہیں، جس کے باعث پروازوں کے دورانیے، ایندھن کی کھپت اور اخراجات میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی ٹورنٹو، پیرس، لندن اور شارجہ سے بھارتی شہروں کی جانب آنے والی متعدد پروازوں کو یا تو ری فیولنگ کے لیے دیگر ممالک میں اتارنا پڑا یا انہیں طویل راستوں پر موڑ دیا گیا۔
ایئرلائنز کو یومیہ تقریباً ساڑھے چار کروڑ بھارتی روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کا براہِ راست اثر عام بھارتی مسافروں پر پڑے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے بھارتی اقدامات کے جواب میں اپنی فضائی حدود بند کی ہو۔ 1999 کی کارگل جنگ اور 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھی ایسی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ 2019 میں پانچ ماہ کی فضائی بندش سے بھارت کو 700 کروڑ روپے تک کا نقصان ہوا تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور بھارت کو سنجیدہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں کشیدگی نہ بڑھے۔
