اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر ہوگا، جس سے صحت کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے نفاذ سے نہ صرف عوام کو صحت کی سہولیات کے حصول میں آسانی ہوگی بلکہ حکومت کے پاس بھی مکمل ڈیٹا موجود ہوگا کہ کس علاقے میں، کب اور کتنے افراد کو کن ادویات یا سہولتوں کی ضرورت ہے۔
ٹھٹھہ: وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی پر حملہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر جلال شاہ گرفتار
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے تحت منعقدہ چھٹی عالمی میڈیکل ریسرچ کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کو ملک کے کسی بھی حصے میں علاج کی ضرورت ہو تو اس کا سارا میڈیکل ڈیٹا ایک ہی نظام کے تحت دستیاب ہوگا، جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ وقت اور وسائل کی بچت بھی ممکن ہوگی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں کافی تحقیق ہو رہی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس وقت ملک کے ٹرشری کیئر اسپتال تقریباً 70 فیصد مریضوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، جب کہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر مراکز کی شدید کمی ہے، جسے دور کرنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے عوام کو ان کے گھروں کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اس موقع پر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے فاؤنڈنگ چیئرمین ڈاکٹر عبد الغفار بلو، چیئرمین ڈاکٹر عبدالباسط، وائس چیئرمین ڈاکٹر اقبال آفریدی اور جنرل سیکریٹری ذکی الدین احمد نے وفاقی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا۔ ڈاکٹر عبد الغفار بلو نے مصطفیٰ کمال کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا کام ہی ان کی پہچان ہے، جب کہ ڈاکٹر عبدالباسط نے ان کے وزارت صحت کا قلمدان سنبھالنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اب صحت کے شعبے میں حقیقی انقلاب آئے گا۔
یہ کانفرنس صحت کے شعبے میں تحقیق، پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے درمیان ایک مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے، جو نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والے وقت میں بھی صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

