کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر تنظیمی معاملات کی تقسیم اور فیصلوں پر شدید اختلافات کے باعث کارکنان نے دھاوا بول دیا۔ کارکنان نے پارٹی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے "گو گورنر گو” اور "گو ٹیسوری گو” کے نعرے لگائے۔
کورنگی میں محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کی بڑی کارروائی، نجی کورئیر سروس سے کروڑوں کی ہیروئن برآمد
کارکنان کا شکوہ تھا کہ پارٹی کے اہم فیصلے بہادر آباد مرکز کے بجائے گورنر ہاؤس میں کیے جا رہے ہیں، جو تنظیمی اصولوں کے خلاف ہے۔ مزید برآں، گذشتہ روز مشاورت کے بغیر جاری کیے گئے ایک سرکلر پر بھی کارکنان نے شدید اعتراضات اٹھائے۔
نئے تنظیمی عہدوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث کارکنان نے عارضی مرکز پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔ احتجاج کے دوران کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی دیکھنے میں آئی۔
مرکز بہادر آباد میں کارکنان کی بڑی تعداد اب بھی موجود ہے اور پارٹی قیادت سے فوری وضاحت اور تنظیمی فیصلوں میں شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ واقعہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی مسائل کو نمایاں کرتا ہے اور قیادت کے فیصلوں پر کارکنان کی عدم اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
