کراچی کے علاقے مشرف کالونی ہاکس بے میں تین روز قبل 22 سالہ حاملہ خاتون عائشہ کے دل دہلا دینے والے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔ ایس ایس پی کیماڑی کیپٹن (ر) فیضان علی کے مطابق، یہ اندوہناک قتل خاتون کے کرایہ دار میاں بیوی نے سونے کی چین اور بالیاں چھیننے کے لیے کیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر کارکنان کا دھاوا، تنظیمی فیصلوں پر شدید احتجاج
واقعہ کی تفصیلات:
مورخہ 4 فروری 2025 کو مشرف کالونی میں ایک گھر سے عائشہ نامی خاتون کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ خاتون کے گلے پر پھندے کے نشانات تھے اور گلے سے سونے کی چین اور کانوں سے بندے غائب تھے۔
عائشہ زوجہ تاج محمد عرف الیاس کی شادی جولائی 2024 میں ہوئی تھی، اور وہ حاملہ تھیں۔ قتل کے وقت خاتون کا شوہر اور دیگر اہل خانہ گھر پر موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے یہ کیس پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا۔
تحقیقات اور گرفتاری:
کیماڑی پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 47/25 بجرم دفعہ 302/34 ت پ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا اور فوری طور پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ قتل میں کرایہ دار میاں بیوی نواب خان ولد احمد علی اور رخسانہ زوجہ نواب خان ملوث ہیں۔
اعتراف جرم:
ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انہوں نے عائشہ کی سونے کی چین اور بالیوں کو چھیننے کے بعد ناڑے (ضاربن) سے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔
قانونی کارروائی:
ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تفتیش جاری ہے، اور انہیں کل معزز عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ ایس ایس پی کیماڑی نے اس کارروائی کو پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ قرار دیا ہے اور شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
