سندھ میں توانائی بحران کی شدت نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صنعتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں 81 صنعتی یونٹس بند
عالمی میری ٹائم دن: جہاز رانی کی حفاظت اور ماحولیات کے تحفظ پر زور
ہو چکے ہیں۔ ان میں 10 ٹیکسٹائل اور 5 شوگر ملیں بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں پارلیمانی سیکریٹری برائے صنعت و تجارت علی احمد جان نے بتایا کہ بجلی کی قلت نے صنعتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
