کراچی سی پورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے ایک بڑی اور اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی بحری دستاویزات کے ایک منظم اور بین الاقوامی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی جہاز CV Albert P پر کی گئی جو کہ 1,352 کنٹینرز پر مشتمل کارگو لے کر بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ جہاز کے عملے کی جانب سے استعمال کی جانے والی متعدد سی مین بکس جعلی تھیں، جن میں بیلیز اور بہاماس کی دستاویزات شامل تھیں۔ مزید یہ بھی ثابت ہوا کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چلنے والے اس جہاز میں امیگریشن قوانین اور بین الاقوامی بحری ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔
امیگریشن کلیئرنس کے دوران فلپائنی اور پاکستانی عملے کے ارکان کو مشکوک اور جعلی دستاویزات کے ساتھ حراست میں لیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش میں جہاز کے کپتان اور عملے نے یہ اعتراف کیا کہ جعلی سی مین بکس انہیں دبئی میں موجود ایک شپنگ ایجنٹ نے فراہم کی تھیں۔
ترجمان کے مطابق عملے کے پاس نہ تو فلیگ اسٹیٹ کی قانونی سی مین بک موجود تھی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر مطلوبہ معاون دستاویزات۔ اس سنگین خلاف ورزی پر فوری کارروائی کرتے ہوئے فی کس 5 لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
یہ جرمانہ مقامی ہینڈلنگ ایجنٹ میسرز GAC پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے وصول کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جہاز کے کپتان اور متعلقہ عملے کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق اس کارروائی کے دوران بین الاقوامی جعلی دستاویزات کے نیٹ ورک کے اہم شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستانی بندرگاہوں پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔
یہ کارروائی مئی 2026 میں ایف آئی اے سی پورٹ کراچی کی تیسری بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جس نے سمندری نقل و حمل میں جعلی دستاویزات کے عالمی نیٹ ورک کو نمایاں طور پر بے نقاب کیا ہے۔
