اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی بڑی وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی قرار، سینیٹ کمیٹی اجلاس میں اہم انکشافات

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، اسٹاکس اور لیوی کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے ارکان کے سوالات کے جوابات دیے۔

کراچی: لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب کی انکوائری مکمل، کیس انویسٹی گیشن میں داخل

اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن حکام نے واضح کیا کہ ملک میں پیٹرول کی قیمت زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے، جو مجموعی قیمت میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔

رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ 28 فروری کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیوں کیا گیا۔ اس پر حکام نے بتایا کہ یکم مارچ کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، جہاں ڈیزل 285 ڈالر فی بیرل اور پیٹرول 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس پیٹرول کا 30 دن اور ڈیزل کا 27 دن کا اسٹاک موجود ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں اسٹریٹیجک پیٹرولیم اسٹاک موجود نہیں، بلکہ یہ اسٹاک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ اسٹاکس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بعض اوقات مہنگی خریداری بھی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام آئل کمپنیوں کا ڈیٹا فراہم کیا جائے گا اور اس معاملے کی ایف آئی اے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عامر چشتی نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ کیا، جس پر وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرایا جائے گا۔

سیف اللہ ابڑو نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کس طرح ہوتا ہے اور ٹیکسز کی تفصیلات کیا ہیں۔ اس پر حکام نے آگاہ کیا کہ لیوی اور ٹیکسز کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!