کراچی (6 مئی 2026): امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی میں صفائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود شہر کو صاف رکھنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال اور ادارے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اختیارات اور وسائل پر قابض ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی صفائی، ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ کراچی میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے بجائے اسے مزید خراب کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر گھر سے کچرا اٹھانے کا نظام مفلوج ہو چکا ہے، جبکہ شہر کی سڑکیں اور علاقے کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ لینڈ فل سائٹس پر کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر موجود ہیں اور پروسیسنگ کا نظام مکمل طور پر غیر فعال ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکومت نے شہری اداروں کو تباہ کر دیا ہے اور اب اہم شہری ادارے بھی سندھ حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر بہتری کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 29 ارب روپے کے منصوبوں اور بڑے بجٹ کے باوجود شہر میں کوئی قابل ذکر بہتری نظر نہیں آ رہی۔ فی یونین کونسل روزانہ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے باوجود صفائی کا نظام بدترین صورتحال کا شکار ہے۔
منعم ظفر خان نے لیاری ندی کے اطراف غیر قانونی کچرا ڈمپنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جبکہ ٹھیکیداری نظام میں مبینہ کرپشن عروج پر ہے اور کوئی مؤثر احتساب موجود نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی 12 سالہ کارکردگی کا فورنزک آڈٹ کیا جائے اور اس ادارے کو ختم کر کے اختیارات ٹاؤنز کو منتقل کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر مؤثر صفائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کے الیکٹرک بلوں میں وصول کیے گئے یوٹیلٹی ٹیکس کا بھی مکمل حساب عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے حقوق کے لیے بھرپور عوامی تحریک شروع کر رہی ہے، جس میں احتجاج، مظاہرے اور عوامی مہم شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام اب اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل چکے ہیں اور پیپلز پارٹی کو اپنی 18 سالہ کارکردگی کا حساب دینا ہوگا۔
