کراچی (6 مئی 2026): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت لاکھوں دیہی خواتین، ماؤں اور کم عمر بچوں کو مالی معاونت، غذائی سہولت اور نشوونما کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اسلام آباد: پاک بحریہ کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس اجلاس، بحری چیلنجز اور جنگی تیاریوں کا جامع جائزہ
یہ فیصلے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (SSPA) کے تیسرے بورڈ اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حکام اور مختلف بورڈ اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 85 ہزار بچوں کے لیے ابتدائی بچپن کی نشوونما (Early Childhood Development) پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما، غذائی معیار اور ابتدائی تعلیم کی تیاری کو بہتر بنانا ہے۔
مزید برآں، زرعی شعبے سے وابستہ دیہی خواتین کے لیے موسمی نقد امداد کے خصوصی پروگرام کی بھی منظوری دی گئی، تاکہ کم آمدنی کے ادوار میں انہیں مالی سہارا فراہم کیا جا سکے اور دیہی معیشت پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
اجلاس میں موجودہ "ممتا پروگرام” کے دائرہ کار میں بھی نمایاں توسیع اور بہتری کی منظوری دی گئی۔ یہ پروگرام اس وقت سندھ کے 22 اضلاع میں جاری ہے اور اس سے 10 لاکھ سے زائد خواتین مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ اس کا مجموعی بجٹ 56 ارب روپے ہے۔
بورڈ نے ادائیگیوں کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے "ہائبرڈ پریڈکٹیبل پیمنٹ ماڈل” کی بھی منظوری دی، جس کے تحت مستحق ماؤں کو مقررہ شیڈول کے مطابق نقد رقوم فراہم کی جائیں گی، چاہے صحت سے متعلق دورے میں معمولی تاخیر بھی ہو جائے۔
ایک اہم فیصلے میں یہ بھی طے پایا کہ حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کی مکمل مالی معاونت جاری رکھی جائے گی، جبکہ دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے مشروط امداد کا 75 فیصد حصہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ کوئی بچہ غذائی یا مالی معاونت سے محروم نہ رہے۔
اجلاس میں 14 ارب روپے کے نئے ای سی ڈی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی، جو کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت 0 سے 5 سال تک کے بچوں کے نگہداشت کرنے والوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 3 ہزار روپے دیے جائیں گے، تاکہ غذائیت، نشوونما اور اسکول کی تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔
دیہی معیشت کو سہارا دینے کے لیے "خواتین زرعی کارکن پروگرام” کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت موسمی طور پر کم آمدنی کے دوران خواتین کو ماہانہ نقد امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مالی مشکلات سے بچ سکیں اور گھریلو استحکام برقرار رہے۔
اس کے علاوہ سندھ میں سوشل پروٹیکشن سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کراچی اور حیدرآباد کے کم آمدنی والے شہری علاقوں میں پروگرام کی توسیع کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کی منظوری بھی دی گئی۔ ساتھ ہی سات نئے اضلاع کے سرکاری صحت مراکز کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گورننس کو بہتر بنانے کے لیے مختلف خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں جن میں آڈٹ، ہیومن ریسورسز، قانونی امور اور تحقیق کے شعبے شامل ہوں گے۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 2.29 ارب روپے کے بجٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ ایک ایسا مضبوط اور قابل اعتماد سماجی تحفظ کا نظام قائم کر رہی ہے جو غریب ترین طبقے کو براہ راست سہارا فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ “ہماری ترجیح ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو پیشگوئی کے قابل ہو اور سندھ کی کمزور ترین خواتین اور بچوں کو بااختیار بنائے۔ صحت، غذائیت اور مالی استحکام کو یکجا کر کے ہم اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی تحفظ صرف ایک فلاحی اقدام نہیں بلکہ انسانی ترقی میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور صحت مند سندھ کی بنیاد رکھے گا۔
