اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ آپریشن "غضب للحق” بدستور جاری ہے اور اس کا دائرہ کار اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
خیبرپختونخوا: ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب کٹوتی پر شدید تحفظات
انہوں نے بتایا کہ عید کے موقع پر برادر ممالک کی درخواست پر اس آپریشن میں عارضی وقفہ ضرور آیا تھا، تاہم اب یہ کارروائی دوبارہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور مطلوبہ نتائج کے حصول تک جاری رہے گی۔ ترجمان کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور دہشتگردی کے تمام ڈھانچوں کو ختم کرنا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ جب تک افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے سے نہیں روکتی، اس وقت تک اس نوعیت کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فالس فلیگ آپریشنز کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم موجودہ کشیدگی کا واحد حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع کی جانب واپسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور گلف تنازع میں کمی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم نے خطے کے مختلف ممالک سے رابطے کیے ہیں تاکہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان امن اور بامعنی مذاکرات کا حامی ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی قیادت خطے میں فوری امن کے قیام کے لیے متحرک ہے اور سفارتی سطح پر کوششوں کی قیادت خود وزیراعظم کر رہے ہیں۔
